مشعر الحرام کا ذکر

رَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ (فَدَعَاهُ، وَكَبَّرَهُ، وَهَللَّهُ، وَوَحَّدَهُ) فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفاً حَتَّى أَسْفَرَ جِدَّاً فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمسُ.

نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعرِ حرام پہنچے، پھر قبلہ رخ ہوئے، اس سے دعا کی، اس کی کبریائی بیان کی، اسے ایک الٰہ مانا اور اس کی وحدانیت بیان کی، پھر آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو گئے۔