سلام کو عام کرنا

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: ((لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلاَ أَدُلُّكُم عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُم، أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ)).

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ ایمان لے آؤ، اور تم مومن نہیں ہو گے یہاں تک کہ آپس میں محبت کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرو تو آپس میں محبت پیدا ہو جائے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔

((ثَلاَثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ: الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلاَمِ لِلْعَالَمِ، وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الإِقْتَارِ)).

تین چیزیں جس نے جمع کر لیں اس نے ایمان کو مکمل کر لیا: اپنے نفس کے بارے میں انصاف کرنا، تمام لوگوں کو سلام کرنا، اور تنگ دستی کے باوجود خرچ کرنا۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أيُّ الْإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ: ((تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ)).

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جسے تم جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے، سب کو سلام کرو۔