اذان کے اذکار

يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ المُؤَذِّنُ إِلاَّ فِي ((حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ وَحَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ)) فَيقُولُ: ((لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ)).

وہ ویسے ہی کہے جیسے مؤذن کہتا ہے سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلاۃ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاح کے، ان کے جواب میں وہ کہے: اللہ کے سوا نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت۔

يَقُولُ: ((وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبَّاً، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً، وَبِالْإِسْلاَمِ دِينَاً)) ((يَقُولُ ذَلِكَ عَقِبَ تَشَهُّدِ الْمُؤَذِّنِ)).

وہ کہے: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔ (یہ کلمات وہ مؤذن کے تشہد کے بعد کہے۔)

((يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ)).

(اذان کا جواب دینے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔)

يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّداً الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامَاً مَحمُوداً الَّذِي وَعَدْتَهُ، [إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ])).

وہ کہے: اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، [بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا]۔

((يَدْعُو لِنَفسِهِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَإِنَّ الدُّعَاءَ حِينَئِذٍ لاَ يُرَدُّ)).

(اذان اور اقامت کے درمیان اپنے لیے دعا کرے کیونکہ اس وقت کی دعا رد نہیں کی جاتی۔)