سونے کے اذکار

((يَجْمَعُ كَفَّيْهِ ثُمَّ يَنْفُثُ فِيهِمَا فَيَقْرَأُ فِيهِمَا:بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ* لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ* وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُواً أَحَدٌ﴾. بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ* مِن شَرِّ مَا خَلَقَ* وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ* وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ* وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾. بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ* مَلِكِ النَّاسِ* إِلَهِ النَّاسِ* مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ* الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ* مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ﴾ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقبَلَ مِنْ جَسَدِهِ)) (يفعلُ ذلك ثلاثَ مرَّاتٍ).

وہ اپنے دونوں ہاتھ ملا کر ان میں پھونک مارتا ہے پھر ان میں یہ پڑھتا ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم، کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، ہر مخلوق کے شر سے، اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ پھر ان دونوں ہاتھوں سے اپنے جسم کے جتنے حصے پر ممکن ہو مسح کرتا ہے، سر اور چہرے سے اور جسم کے اگلے حصے سے شروع کرتا ہے۔ یہ تین بار کرتا ہے۔

﴿اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْـــــــــــدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾.

اللہ، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں، اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔

حوالہ: آية الكرسى - سورة البقرة 255

أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ. لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.

میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
رسول اس چیز پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کی گئی اور مومن بھی ایمان لائے، سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، وہ کہتے ہیں: ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، اس نے جو نیکی کمائی وہ اسی کے لیے ہے اور جو برائی کمائی وہ بھی اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہمیں نہ پکڑنا۔ اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر اتنا بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس ہمیں کافر قوم پر غلبہ عطا فرما۔

جو شخص رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔

حوالہ: سورة البقرة 285 - 286

((بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِن أَمْسَكْتَ نَفْسِي فارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا، بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ)).

اے میرے رب! تیرے ہی نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیرے ہی نام سے اٹھاتا ہوں، پس اگر تو میری جان روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر واپس بھیج دے تو اس کی حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

((اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْياهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَافِيَةَ)).

اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو ہی اسے واپس لیتا ہے، اس کی موت اور زندگی تیرے ہی اختیار میں ہے۔ اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما، اور اگر اسے موت دے دے تو اسے بخش دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

((اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ)).

اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا مجھے اپنے عذاب سے بچا۔

((بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا)).

اے اللہ! تیرے ہی نام سے مرتا اور جیتا ہوں۔

((سُبْحَانَ اللَّهِ (ثلاثاً وثلاثين) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ (ثلاثاً وثلاثين) وَاللَّهُ أَكْبَرُ (أربعاً وثلاثينَ))).

پاکی ہے اللہ کے لیے (تینتیس بار)، تعریف ہے اللہ کے لیے (تینتیس بار)، اور اللہ سب سے بڑا ہے (چونتیس بار)۔

((اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ، وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ. اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ)).

اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب، زمین کے رب، عرشِ عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات، انجیل اور فرقان نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں، اور تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں، تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کچھ نہیں، اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے قریب تر کچھ نہیں۔ ہمارا قرض ادا فرما اور ہمیں فقر سے بے نیاز کر دے۔

((الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ)).

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، ہمیں کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کو نہ کوئی کافی ہونے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔

((اللَّهُمَّ عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءاً، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ)).

اے اللہ! غیب اور ظاہر کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں اپنے نفس کی برائی سے، شیطان اور اس کے شرک کی برائی سے، اور اس بات سے کہ میں اپنے اوپر کوئی برائی کروں یا کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں، تیری پناہ مانگتا ہوں۔

((يَقْرَأُ ﴿الم﴾ تَنْزِيلَ السَّجْدَة ِ، وَتَبَارَكَ الَّذي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)).

وہ الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی بیدہ الملک (سورہ ملک) پڑھتے۔

((اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ)).

اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف کر لیا، اور اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، تیری طرف رغبت سے اور تیرے خوف سے۔ تجھ سے بچنے کی کوئی جگہ اور پناہ نہیں سوائے تیری ہی طرف۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی، اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا۔